مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ طَلَاقِ الْعَبْدِ وَإِنَّهَا تَحْرُمُ عَلَيْهِ بِاثْنَتَيْنِ باب: غلام کی طلاق کا بیان اور یہ کہ اس پر دو طلاقوں سے حرمت ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 1257
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ.حافظ محمد فہد
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ جس نے اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے دی تو طلاق کا اختیار غلام ہی کے پاس ہے، غلام کے علاوہ اور کسی کو طلاق کا اختیار نہیں ہے۔