مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابٌ مِنْهُ فِي الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ بَعْدَ الدُّخُولِ باب: رخصتی کے بعد تین طلاقیں دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ وَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: "أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ" ، قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ! .نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ قرظی کی بیوی نے نبی ﷺ سے آکر کہا، میں رفاعہ کی بیوی تھی اور اس نے مجھے طلاق بائن دے دی، پھر میں نے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کی، اور اس کے پاس تو کپڑے کے پلو کی طرح ہے (یعنی وہ نامرد ہے) رسول اللہ ﷺ یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا: ”کیا تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو؟ یہ اس وقت تک نہ ہوگا جب تک کہ تو اپنے موجودہ خاوند کا اور وہ تیرا ذائقہ نہ چکھ لے۔“ عروہ نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نبی ﷺ کے پاس تشریف فرما تھے جبکہ خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر تھے کہ انہوں نے آواز دی، اے ابوبکر! آپ سنتے نہیں کہ یہ عورت نبی ﷺ کے پاس کیا باتیں کر رہی ہے۔