مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابٌ مِنْهُ فِي الطَّلَاقِ ثَلَاثًا قَبْلَ الدُّخُولِ باب: رخصتی سے پہلے تین طلاقیں دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ [ ص: 100 ] الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا. قَالَ عَطَاءٌ: فَقُلْتُ: إِنَّمَا طَلَاقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ. الْوَاحِدَةُ تَبُتُّهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ يَقُلْ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حِينَ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا.عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے آدمی کا مسئلہ پوچھنے آیا جس نے اپنی بیوی کو ہم بستری سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دی ہیں۔ عطاء کہتے ہیں میں نے کہا، بے شک کنواری کے حق میں ایک وارد ہوگی تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک طلاق اسے بتہ بنا دے گی اور تین اسے اس وقت تک کے لیے حرام بنا دیں گی جب تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کر لے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے جب اس نے تین طلاقیں دیں تو یہ نہیں کہا کہ تو نے بہت برا کیا (یعنی اس کے اس عمل پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا)۔