مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابٌ مِنْهُ فِي الطَّلَاقِ ثَلَاثًا قَبْلَ الدُّخُولِ باب: رخصتی سے پہلے تین طلاقیں دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1248
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْكِحَهَا، فَجَاءَ يَسْتَفْتِي فَسَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. فَقَالَا: لَا نَرَى أَنْ يَنْكِحَهَا حَتَّى تَزَوَّجَ زَوْجًا غَيْرَكَ. فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ طَلَاقِي إِيَّاهَا وَاحِدَةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَ مِنْ يَدِكَ مَا كَانَ لَكَ مِنْ فَضْلٍ.حافظ محمد فہد
محمد بن ایاس بن بکیر نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ہم بستری سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں، پھر اس کا اس سے نکاح کا پروگرام بنا تو وہ مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا اور اس نے ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ہمارے خیال میں جب تک وہ عورت کسی دوسرے خاوند سے شادی نہ کر لے یہ نکاح نہیں کر سکتا، اس آدمی نے کہا، میرا ایک طلاق کا ارادہ تھا، ابن عباس نے فرمایا: تو نے اپنا (سارا) حق استعمال کر لیا۔