مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ باب: سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1244
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءَ" .حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے عہد میں اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی، جب عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن عمر سے کہو وہ اس سے رجوع کر لے، پھر اسے حیض ختم ہونے تک اپنے نکاح میں رکھے، پھر وہ حائضہ ہو اور جب اس کے بعد وہ حیض سے پاک ہو تو اگر چاہے تو اپنے نکاح میں روکے رکھے اور اگر چاہے تو اس سے ہم بستری سے پہلے ہی طہر میں طلاق دے دے، یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“