مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ باب: سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عَزَّةَ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ. فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ، فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ" . قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهَنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ أَوْ لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ. الشَّافِعِيُّ شَكَّ.ابوزبیر نے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن ایمن مولیٰ عزہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کر رہے تھے اور ابوزبیر سن رہا تھا، انہوں نے پوچھا: ”آپ کا اس آدمی کے متعلق کیا خیال ہے جس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی؟“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر (یعنی خود انہوں نے) نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسے (ابن عمر کو) کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں اور جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو پھر اگر چاہے تو طلاق دے دے یا اسے نکاح میں روک لے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں عدت کے شروع میں طلاق دو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے «في قُبل عدتهن» اور «لقبل عدتهن» میں شک کیا ہے۔