مسند الإمام الشافعي
كتاب الطلاق— طلاق کے مسائل کا بیان
بَابُ طَلَاقِ السُّنَّةِ باب: سنت کے مطابق طلاق دینے کا بیان
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عُمَرُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا [ ص: 95 ] وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ" .ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں طلاق دے دی جبکہ وہ حائضہ تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن عمر سے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لیں، پھر وہ اپنے نکاح میں روکے رکھیں یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے۔ پھر وہ دوبارہ حائضہ ہو اور پھر اس کا حیض بند ہو، پھر اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو نکاح میں رکھے اور اگر چاہے تو طلاق دے، ہم بستری کرنے سے پہلے پہلے۔ یہی طہر کی وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔