مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ فِي النُّشُوزِ باب: نشوز (بیوی کی نافرمانی یا شوہر کی بے رخی) کا بیان
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا [النِّسَاءِ: 35] . قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَأَمَرَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا، ثُمَّ قَالَ لِلْحَكَمَيْنِ: تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا، قَالَ: قَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ بِكِتَابِ اللَّهِ بِمَا عَلَيَّ فِيهِ وَلِي. وَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَذَبْتَ وَاللَّهِ حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ الَّذِي أَقَرَّتْ بِهِ.عبیدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ اس آیت: ”اگر تمہیں میاں بیوی کی آپس کی ناچاکی کا خوف ہو تو ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں کی طرف سے بھیجو“ (النساء : 35) کے متعلق فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے عہدِ خلافت میں) ایک میاں بیوی اپنی برادری کے لوگوں کے ساتھ آئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں سے بھیجیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں منصفوں سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارا کام کیا ہے؟ اگر تم مناسب سمجھو تو دونوں میں اتفاق کرا دو اور اگر چاہو تو دونوں کو الگ الگ کرا دو“۔ یہ سن کر عورت نے کہا: ”میں اللہ کی کتاب کے فیصلے پر راضی ہوں خواہ ملاپ کی صورت میں ہو یا جدائی کی صورت میں“، اور آدمی نے کہا: ”مجھے جدائی منظور نہیں ہے“۔ اس پر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تو جھوٹا ہے، تجھے بھی دونوں صورتیں اسی طرح منظور کرنی پڑیں گی“۔