مسند الإمام الشافعي
كتاب عشرة النساء والإيلاء والخلع— عورتوں سے حسنِ معاشرت، ایلاء اور خلع کا بیان
بَابٌ فِي النُّشُوزِ باب: نشوز (بیوی کی نافرمانی یا شوہر کی بے رخی) کا بیان
حدیث نمبر: 1218
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَتْ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَكَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا إِمَّا كِبْرًا وَإِمَّا غَيْرَهُ فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَنَا أَحِلُّ لَكَ. فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا [النِّسَاءِ: 128] الْآيَةَ. قَالَ: فَمَضَتْ بِذَلِكَ السُّنَّةُ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْخُلْعِ وَالنُّشُوزِ وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ النِّكَاحِ مِنَ الْإِمْلَاءِ.حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے انہیں ناپسند کرنے لگے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے طلاق دینے کا ارادہ کر لیا۔ تب انہوں نے کہا: ”مجھے طلاق نہ دیں، میں اپنے حقوق سے دستبردار ہوتی ہوں“۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی بے تعلقی یا بے رخی سے ڈرے“ (النساء : 128)۔ فرمایا: پھر یہی طریقہ رائج ہو گیا۔