کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: زمین پر جنت کی تین اشیاء کا بیان
حدیث نمبر: 963
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ((لَمْ يَبْقَ مِنَ الْجَنَّةِ فِي الْأَرْضِ شَيْءٌ إِلَّا هَذَا الْحَجَرُ وَغَرْسُ الْعَجْوَةِ وَأَوْدَاءٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَصُبُّ فِي مَاءِ الْفُرَاتِ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ)) ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَنَا مَا طَهْوَى فَأَعَادَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَنَا مَا طَهْوَى.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: زمین پر جنت کی اشیاء میں سے صرف یہ پتھر (حجر اسود) اور عجوہ کھجور کا پودا لگانا باقی رہ گیا ہے، جنتی برتنوں کو روزانہ تین بار فرات کے پانی میں ڈالا جاتا ہے۔ ایک آدمی نے کہا: آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرا پھر کیا کام اگر میں نے اسے آپ سے نہ سنا ہو۔ اس نے پھر پوچھا: تو انہوں نے کہا: کہ میرا پھر کیا کام اگر میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو۔
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجنة و النار و صفتهما / حدیث: 963
تخریج حدیث «اسناده حسن .»