حدیث نمبر: 958
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: ﴿وَظِلٍّ مَمْدُودٍ﴾ [الواقعة: 30] "، قَالَ: زَعَمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ مَا تَقْطَعُهَاقَالَ: مَعْمَرٌ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ((وَظِلٍّ مَمْدُودٍ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
قتادہ رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”لمبے سائے۔“ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سائے میں سو سال سفر کرتا رہے گا، لیکن وہ اسے ختم نہیں کر سکے گا۔“ معمر نے کہا: مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے (اسی بات کو) سنا، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان وظل ممدود کو پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 959
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، نا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے سوار اس کے سائے میں سو برس سفر کرتا رہے گا۔“