حدیث نمبر: 841
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، نا يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يُوشِكَ أَنْ تَظْهَرَ فِتْنَةٌ لَا يُنَجِّي إِلَّا اللَّهُ أَوْ مَنْ دَعَا بِدُعَاءٍ كَدُعَاءِ الْغَرْقَى)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ فتنہ ظاہر ہو اللہ کے سوا کوئی نہیں بچے گا یا پھر وہ جس نے دعا غرق کی طرح دعا کی۔“
حدیث نمبر: 842
أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُخَيَّرُ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ)) ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَلِكَ فَاخْتَرِ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا، آدمی کو عجز و فجور کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 843
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، قَالَ: زَعَمَ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، وَهُوَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ((لَيْسَ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ عَذَابٌ، إِنَّمَا عَذَابُهَا بِأَيْدِيهِمْ)) ، فَقِيلَ: وَكَيْفَ يَكُونَ عَذَابُهَا بِأَيْدِيهِمْ؟، فَقَالَ: ((أَلَيْسَ صَفِّينُ كَانَ عَذَابًا؟ أَلَيْسَ النَّهْرَوَانُ كَانَ عَذَابًا؟ أَلَيْسَ الْجَمَلُ كَانَ عَذَابًا؟)) قُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ: مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ سَعْدٍ؟ قَالَ: يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اس امت پر عذاب نہیں، اس کا عذاب اس کے ہاتھوں میں ہے، ان سے کہا گیا، اس کا عذاب ان کے ہاتھوں میں کس طرح ہو سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا جنگ صفین عذاب نہیں تھا، کیا جنگ نہروان عذاب نہیں تھا، کیا جنگ جمل عذاب نہیں تھا؟ راوی نے بیان کیا کہ میں نے ابوداود رحمہ اللہ سے کہا: اسے سعد سے کس نے روایت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یحییٰ بن ابی زایدہ نے۔