کتب حدیث ›
مسند اسحاق بن راهويه › ابواب
› باب: دو مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے چھوٹ کا سہارا لینا درست ہے
حدیث نمبر: 807
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا صَالِحٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَا خَيْرًا)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ جھوٹ نہیں جو کوئی شخص لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے تو (اس سے) خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے یا خیر و بھلائی کی بات آگے پہنچاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 808
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيْضًا، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، وَهِيَ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأَوَّلِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ أَخِيرًا أَوْ نَمَا خَيْرًا)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں جو دو افراد کے درمیان صلح کراتا ہے، وہ خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے یا خیر و بھلائی کی بات آگے پہنچاتا ہے۔“