کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: ہر مسلمان کا ہر روز صدقہ کرنا ضروری ہے
حدیث نمبر: 767
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الْطَرِيقٍ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ، وَعِيَادَتُكَ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ صَدَقَةٌ، وَاتِّبَاعُكَ جِنَازَتَهُ صَدَقَةٌ، وَرَدُّكَ السَّلَامَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر ہر روز صدقہ کرنا ضروری ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان شخص کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کی عیادت کرنا صدقہ ہے، تمہارا جنازے میں شریک ہونا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے۔“ محمد بن فضیل بن غزوان نے اس اسناد سے اسی مثل روایت کیا ہے، راوی نے بیان کیا: انہوں نے کہا: اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا صدقہ ہے، تمہارا مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے، تمہارا جنازے میں شریک ہونا صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البر و الصلة / حدیث: 767
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الجهاد ، باب من اخذ بالركا ب ونحوه ، رقم : 2989 . مسلم كتاب الزكاة ، باب بيان ان اسم الصدقة الخ ، رقم : 1009 . مسند احمد : 328/2 .»
حدیث نمبر: 768
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ: فَقَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ ‍‍ قَالَ: ((إِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَعِيَادَتُكَ الْمَرِيضَ صَدَقَةٌ، وَاتِّبَاعُكَ جِنَازَتَهُ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيُكَ وَرَدُّكَ السَّلَامَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
محمد بن فضیل بن غزوان نے اس اسناد سے اسی مثل روایت کیا ہے، راوی نے بیان کیا: انہوں نے کہا: اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا صدقہ ہے، تمہارا مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے، تمہارے جنازے میں شریک ہونا صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البر و الصلة / حدیث: 768
تخریج حدیث «السابق .»
حدیث نمبر: 769
أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ، نا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِرْشَادُكَ الْمُسْلِمَ عَلَى الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَرَدُّكَ السَّلَامَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر روزانہ صدقہ کرنا واجب ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا مسلمان کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البر و الصلة / حدیث: 769
تخریج حدیث «انظر ما قبله .»