کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: دو سجدوں کے درمیان قدموں پر سرین رکھ کر بیٹھنا
حدیث نمبر: 194
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، اَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ اَبُو الزُّبَیْرِ، اَنَّهٗ سَمِعَ طَاؤُوْسًا یَقُوْلُ: قُلْنَا لِاِبْنِ عَبَّاسٍ فِی الْاِقْعَاءِ عَلَی الْقَدَمَیْنِ، فَقَالَ: هُوَ سُنَّةٌ، قُلْنَا: فَمَا تَرٰی ذٰلِکَ مِنَ الْحَسَنِ اِذَا فَعَلَهٗ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: بَلٰی هُوَ سُنَّةُ نَبِیِّكَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم نے (سجدوں کے درمیان) قدموں پر سرین رکھ کر بیٹھنے کے متعلق سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: وہ سنت ہے، ہم نے کہا: جب آدمی اس طرح کرتا (بیٹھتا) ہے تو کیا آپ اسے اچھا سمجھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، وہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 194
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب المساجد ، باب جواب الاقعاء على القدمين ، رقم : 536 . سنن ابوداود ، رقم : 845 . سنن ترمذي ، رقم : 283 .»