حدیث نمبر: 177
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز چاشت کی دو رکعتوں پر محافظت کی تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہو۔“
حدیث نمبر: 178
أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، نا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، نا أَبُو عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ مَعْبَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: " أَوْصَانِي حَبِيبِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ: بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی میں زندگی بھر انہیں نہیں چھوڑوں گا: چاشت کی دو رکعتوں کے متعلق، ہر ماہ تین دن روزہ رکھنا، اور یہ کہ میں وتر پڑھ کر سوؤں۔
حدیث نمبر: 179
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: " أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ خَلِيلِي وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ خَلِيلَا، أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی، میں نہیں کہوں گا کہ میرے خلیل (جگری دوست) نے مجھے وصیت فرمائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں: ”اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو خلیل بناتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ماہ تین دن روزہ (رکھنے)، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے اور وتر پڑھ کر سونے کی، مجھے وصیت فرمائی۔
حدیث نمبر: 180
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَكْمِلُوا بِهِ الْفَرِيضَةَ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر اس نے اسے پورا ادا کیا ہو گا تو ٹھیک، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو کیا میرے بندے کی نفل نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفل نماز مل گئی تو فرمائے گا: اس کے ساتھ فرض نماز کو پورا کر دو۔“