حدیث نمبر: 160
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حِزَمَ الْحَطَبِ، ثُمَّ نُحَرِّقَ عَلَى أَقْوَامٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں نماز کا حکم دوں پس نماز کے لیے اقامت کہی جائے، پھر میں نوجوانوں کو حکم دوں تو وہ لکڑیوں کے گٹھے اکٹھے کریں، پھر انہیں ان پر جلایا جائے جو نماز پڑھنے نہیں آتے۔“
حدیث نمبر: 161
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، نا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، نا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي، فَيَجْمَعُوا حِزَمَ الْحَطَبِ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى أَقْوَامٍ بُيُوتَهُمْ يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ، ثُمَّ لَا يَأْتُوهَا)) ، قَالَ: فَقِيلَ لِيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ إِلَى جُمُعَةٍ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ذَكَرَ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں جوانوں کو حکم دوں کہ وہ لکڑیوں کے گٹھے اکٹھے کریں، پھر میں نماز کا حکم دوں تو اس کے لیے اقامت کہی جائے، پھر ان لوگوں پر ان کے گھر جلا دوں جو اذان سنتے ہیں لیکن نماز پڑھنے نہیں آتے۔“
حدیث نمبر: 162
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَالْمُلَائِيُّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ يَزِيدَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
فضل بن موسیٰ اور الملائی نے اس اسناد سے اسی مثل روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 163
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: ((هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأَجِبْ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا: میرا ایسا کوئی قائد نہیں جو کہ مجھے نماز کے لیے لے آئے، پس اس نے آپ سے درخواست کی کہ وہ اسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، جب وہ واپس مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: ”کیا تم نماز کے لیے اذان سنتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر نماز کے لیے آؤ۔“