کتب حدیث ›
مسند اسحاق بن راهويه › ابواب
› باب: آدمی نماز کے وقت سویا رہ جائے تو جب اٹھے نماز ادا کرلے
حدیث نمبر: 145
أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ، نا يَزِيدُ، وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى إِذَا نَاجَزَ الشَّمْسَ فَاسْتَيْقَظْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((لِيَأَخُذْ كُلٌّ مِنْكُمْ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، عَنْ هَذَا الْمَوْضِعِ الَّذِي أَصَابَكُمْ فِيهِ مَا أَصَابَكُمْ)) ، قَالَ: فَتَنَحَّيْنَا، عَنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى هُوَ وَأَصْحَابُهُ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ بَعْدَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرام کی غرض سے قیام کیا، پس ہم سوئے رہے حتیٰ کہ سورج کی تپش محسوس ہوئی تو ہم بیدار ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اپنی سواری کو اس جگہ سے ہٹائے کہ اس جگہ تم جس مسئلے کا شکار ہوئے ہو، جو تمہیں معلوم ہی ہے۔“ راوی نے بیان کیا: پس ہم اس سے ہٹ گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضوء کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر اقامت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن چڑھنے کے بعد ہمیں فجر کی نماز پڑھائی۔