کتب حدیثمسند اسحاق بن راهويهابوابباب: نماز باجماعت کی فضیلت
حدیث نمبر: 132
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْلَمُ إِذَا شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعِي خَيْرٌ لَهُ أَنْ يُدْعَى إِلَى شَاةٍ سَمِينَةٍ أَوْ سَمِينٍ يَفْعَلُ فَمَا لَهُ فِي ذَلِكَ أَكْثَرُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ جب وہ میرے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اسے موٹی تازی ایک بکری یا دو موٹی تازی بکریوں کی طرف بلایا جائے تو وہ ضرور کرے، (نماز میں حاضر ہو) پس اس کے لیے جو اس میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 132
تخریج حدیث «مسند احمد : 299/2 . قال شعيب الارناوط : اسناده صحيح»