مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الجنة و النار و صفتهما— جنت اور جہنم کے خصائل
باب: جنتی حسن و جمال اور قد و قامت میں سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا
حدیث نمبر: 975
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَهُوَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الْيَوْمَ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
اسی (سابقہ) سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنت میں داخل ہو گا۔ وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہو گا، (آدم علیہ السلام کے بعد) انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی (سابقہ ۴۳۵) سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص جنت میں داخل ہوگا، وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا، (آدم علیہ السلام کے بعد) انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے ہیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:975]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:975]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جو بھی جنت میں جائے گا وہ حسن وجمال، خوبصورتی اور قدوقامت میں سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص بھی جنت میں جائے گا۔ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کی طرح ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا۔‘‘ (شروع میں لوگوں کے قد ساٹھ ہاتھ تھے) جو بعد میں گھٹتے گئے، حتیٰ کہ موجودہ قد پر آگئے۔ (مسلم، کتاب الجنة وصفة، باب یدخل الجنة اقوام افئدتهم مثل افئدة الطیر)
یہ بھی معلوم ہوا ہر زمانے کے لوگ قدوقامت کے لحاظ سے اپنے سے پہلے لوگوں کے مقابلہ میں پست رہے ہیں۔ حتی کہ ابراہیم علیہ السلام قدموں کے نشان مقامِ ابراہیم پر موجود وہ عام سائز کے ہیں۔ یعنی 6 یا 7 انچ تقریباً۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جو بھی جنت میں جائے گا وہ حسن وجمال، خوبصورتی اور قدوقامت میں سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص بھی جنت میں جائے گا۔ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کی طرح ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا۔‘‘ (شروع میں لوگوں کے قد ساٹھ ہاتھ تھے) جو بعد میں گھٹتے گئے، حتیٰ کہ موجودہ قد پر آگئے۔ (مسلم، کتاب الجنة وصفة، باب یدخل الجنة اقوام افئدتهم مثل افئدة الطیر)
یہ بھی معلوم ہوا ہر زمانے کے لوگ قدوقامت کے لحاظ سے اپنے سے پہلے لوگوں کے مقابلہ میں پست رہے ہیں۔ حتی کہ ابراہیم علیہ السلام قدموں کے نشان مقامِ ابراہیم پر موجود وہ عام سائز کے ہیں۔ یعنی 6 یا 7 انچ تقریباً۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 975 سے ماخوذ ہے۔