حدیث نمبر: 970
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ أَوْ قَالَ: الْعَلَامَةُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، کیونکہ وہ برا ساتھی ہے، اور میں خیانت سے تیری پناہ چاہتا ہوں کیونکہ وہ برا راز دان ہے یا فرمایا بری نشانی ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجنة و النار و صفتهما / حدیث: 970
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب سجود القرآن ، باب فى الاستعاذه ، رقم : 1547 قال الالباني : حسن . سنن نسائي ، رقم : 5468 . صحيح ابن حبان ، رقم : 1029 . صحيح ترغيب وترهيب ، رقم : 3002 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: ’’اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، کیونکہ وہ برا ساتھی ہے، اور میں خیانت سے تیری پناہ چاہتا ہوں کیونکہ وہ برا راز دان ہے یا فرمایا بری نشانی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:970]
فوائد:
(1) مذکورہ دعا بڑی جامع ہے لہٰذا یہ دعا انسان کو مانگتے رہنا چاہیے، کیونکہ بسا اوقات بھوک بندے کو اللہ کے ذکر سے غافل کر دیتی ہے۔ لہٰذا ایسی بھوک سے اللہ ذوالجلال سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ جو کفر تک پہنچا دے۔
(2).... خیانت سے پناہ مانگتے تھے، کیونکہ وہ برا راز دان اور بری ہم نشین و مصاحب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب خائن آدمی کی خیانت کا راز فاش ہوتا ہے تو آدمی بدنام ہوتا ہے معاشرے میں ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 970 سے ماخوذ ہے۔