حدیث نمبر: 960
أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعَ فِيهَا قَدَمَهُ فَتَبْرَدَ أَوْ تَقُولَ: قَطْ قَطْ ".ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا، تو وہ یہی کہے گی، کیا کچھ اور ہے؟ حتیٰ کہ اس کے پاس اللہ تبارک وتعالیٰ آئے گا تو وہ اپنا قدم اس میں رکھے گا تو وہ سمٹ جائے گی اور کہے گی، کافی ہے، کافی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جہنمیوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا، تو وہ یہی کہے گی: کیا کچھ اور ہے؟ حتیٰ کہ اس کے پاس اللہ تبارک وتعالیٰ آئے گا تو وہ اپنا قدم اس میں رکھے گا تو وہ سمٹ جائے گی اور کہے گی: کافی ہے، کافی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:960]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:960]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے جہنم کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں انسان اور جن داخل کر دئیے جائیں گے، اس کے باوجود وہ نہیں بھرے گی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم میں جائیں گے۔ اور جہنم نہیں بھرے گی تو اللہ ذوالجلال نے وعدہ کیا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجنة وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴾ (السجدة: 13) ’’میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا۔‘‘
لیکن جب جن وانس جہنم میں جائیں گے، اس کے بعد اللہ ذوالجلال پوچھے گا: تو بھر گئی ہے یا نہیں؟ وہ جواب دے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی اگرچہ میں بھر گئی ہوں، لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لیے میرے دامن میں اب بھی گنجائش ہے۔ تو اللہ ذوالجلال اس کے بعد اپنا قدم رکھیں گے تو جہنم پکار اٹھے گی: کافی ہے، کافی ہے۔
مذکورہ حدیث سے جہنم کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں انسان اور جن داخل کر دئیے جائیں گے، اس کے باوجود وہ نہیں بھرے گی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم میں جائیں گے۔ اور جہنم نہیں بھرے گی تو اللہ ذوالجلال نے وعدہ کیا، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجنة وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ﴾ (السجدة: 13) ’’میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا۔‘‘
لیکن جب جن وانس جہنم میں جائیں گے، اس کے بعد اللہ ذوالجلال پوچھے گا: تو بھر گئی ہے یا نہیں؟ وہ جواب دے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی اگرچہ میں بھر گئی ہوں، لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لیے میرے دامن میں اب بھی گنجائش ہے۔ تو اللہ ذوالجلال اس کے بعد اپنا قدم رکھیں گے تو جہنم پکار اٹھے گی: کافی ہے، کافی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 960 سے ماخوذ ہے۔