مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الجنة و النار و صفتهما— جنت اور جہنم کے خصائل
باب: جنت کے درختوں کے طویل سایوں کا بیان
حدیث نمبر: 959
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، نا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے سوار اس کے سائے میں سو برس سفر کرتا رہے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جنت میں ایک درخت ہے سوار اس کے سائے میں سو برس سفر کرتا رہے گا۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:959]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:959]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جنت میں درختوں کے سائے بہت طویل ہوں گے اور وہ درخت ہمیشہ پھلوں سے بھرے رہیں گے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مُدْهَامَّتَانِ() فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ﴾ (الرحمن: 64۔65).... ’’(جنت کے باغ) گھنے سیاہی مائل سرسبز ہیں۔ پس اے جن وانس! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟‘‘
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’طوبی جنت میں ایک درخت کا نام ہے اس (کے سائے) کی مسافت سو سال ہے۔ اور جنتیوں کے کپڑے اس کی کلیوں کے غلاف سے تیار کیے گئے ہیں۔ ‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 1985)
حالانکہ جنت میں دھوپ نہیں ہوگی لیکن درختوں کا وجود اللہ ذوالجلال کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جس سے منظر خوبصورت بنتا ہے۔ مذکورہ حدیث سے جنت کی وسعت کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس کے درخت اتنے بڑے ہیں وہ خود کتنی بڑی ہوگی۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جنت میں درختوں کے سائے بہت طویل ہوں گے اور وہ درخت ہمیشہ پھلوں سے بھرے رہیں گے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مُدْهَامَّتَانِ() فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ﴾ (الرحمن: 64۔65).... ’’(جنت کے باغ) گھنے سیاہی مائل سرسبز ہیں۔ پس اے جن وانس! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟‘‘
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’طوبی جنت میں ایک درخت کا نام ہے اس (کے سائے) کی مسافت سو سال ہے۔ اور جنتیوں کے کپڑے اس کی کلیوں کے غلاف سے تیار کیے گئے ہیں۔ ‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 1985)
حالانکہ جنت میں دھوپ نہیں ہوگی لیکن درختوں کا وجود اللہ ذوالجلال کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جس سے منظر خوبصورت بنتا ہے۔ مذکورہ حدیث سے جنت کی وسعت کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس کے درخت اتنے بڑے ہیں وہ خود کتنی بڑی ہوگی۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 959 سے ماخوذ ہے۔