حدیث نمبر: 874
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيُّ قَطُّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ وَإِنَّهُ يَطَأُ الْأَرْضَ كُلَّهَا غَيْرَ طَيْبَةٍ)) . يَعْنِي الْمَدِينَةَ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی نے (اپنی امت کو) دجال کے فتنے سے خبردار کیا ہے، اے امت! وہ تم میں ظاہر ہو گا، لیکن وہ طیبہ (مدینہ منورہ) کے علاوہ ساری زمین پر چکر لگائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر نبی نے (اپنی امت کو) دجال کے فتنے سے خبردار کیا ہے، اے امت! وہ تم میں ظاہر ہوگا، لیکن وہ طیبہ (مدینہ منورہ) کے علاوہ ساری زمین پر چکر لگائے گا۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:874]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:874]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ سیّدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’آدم سے لے کر قیامت تک اللہ کی مخلوق میں سے دجال سے بڑا اور کوئی (فتنہ) نہیں ہوگا۔‘‘ (مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعة، باب في بقیة من احادیث الدجال، رقم: 2946)
معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ کا نام طیبہ بھی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ سَمَّاهَا طَیْبَةَ۔)) (مسند احمد: 3؍ 96) .... ’’کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا نام طیبہ رکھا ہے۔ ‘‘
مذکورہ حدیث سے مدینہ منورہ کی فضیلت کا بھی اثبات ہوتا ہے کہ اس میں دجال داخل نہیں ہوگا۔
دوسری حدیث میں ہے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے ان کے۔ ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے۔ پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کردے گا۔ (بخاري، کتاب فضائل المدینة، رقم: 1881)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ سیّدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’آدم سے لے کر قیامت تک اللہ کی مخلوق میں سے دجال سے بڑا اور کوئی (فتنہ) نہیں ہوگا۔‘‘ (مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعة، باب في بقیة من احادیث الدجال، رقم: 2946)
معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ کا نام طیبہ بھی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ سَمَّاهَا طَیْبَةَ۔)) (مسند احمد: 3؍ 96) .... ’’کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا نام طیبہ رکھا ہے۔ ‘‘
مذکورہ حدیث سے مدینہ منورہ کی فضیلت کا بھی اثبات ہوتا ہے کہ اس میں دجال داخل نہیں ہوگا۔
دوسری حدیث میں ہے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے ان کے۔ ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے۔ پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کردے گا۔ (بخاري، کتاب فضائل المدینة، رقم: 1881)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 874 سے ماخوذ ہے۔