حدیث نمبر: 862
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، نا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى يَتَمَرَّغَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ فَيَقُولَ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ لَيْسَ بِهِ الدَّيْنُ إِلَّا الْبَلَاءُ ".ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہو گی حتیٰ کہ آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا: کاش یہ قبر میری ہوتی، وہ دین کی وجہ سے ایسے نہیں کہے گا، بلکہ وہ صرف (دنیوی) مشکلات کی وجہ سے ایسے کہے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہوگی حتیٰ کہ آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے گااور کہے گا: کاش یہ قبر میری ہوتی، وہ دین کی وجہ سے ایسے نہیں کہے گا، بلکہ وہ صرف (دنیوی) مشکلات کی وجہ سے ایسے کہے گا۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:862]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:862]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا دنیا میں شر وفساد بہت زیادہ ہو جائیں گئے کہ لوگ زندگی پر مرنے کو ترجیح دیں گے۔ موجودہ زمانے میں بعض لوگ ایسی ایسی آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے وہ موت کی تمنا کرتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک ایسا نہ ہو کہ آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کے شوق کی بنا پر کہے گا: کاش! میں اس کی جگہ ہوتا۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 578)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: سلف کی ایک جماعت کے نزدیک فساد دین کے وقت موت کی تمنا کرنا ثابت ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: ایسے وقت میں موت کی تمنا کرنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ سلف صالحین نے ایسے کیا ہے۔ جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ (سلسلة الصحیحة،: رقم 578)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا دنیا میں شر وفساد بہت زیادہ ہو جائیں گئے کہ لوگ زندگی پر مرنے کو ترجیح دیں گے۔ موجودہ زمانے میں بعض لوگ ایسی ایسی آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے وہ موت کی تمنا کرتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک ایسا نہ ہو کہ آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کے شوق کی بنا پر کہے گا: کاش! میں اس کی جگہ ہوتا۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 578)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: سلف کی ایک جماعت کے نزدیک فساد دین کے وقت موت کی تمنا کرنا ثابت ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: ایسے وقت میں موت کی تمنا کرنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ سلف صالحین نے ایسے کیا ہے۔ جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ (سلسلة الصحیحة،: رقم 578)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 862 سے ماخوذ ہے۔