حدیث نمبر: 861
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَجِيءَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ)).
حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الفتن / حدیث: 861

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں سے ایک جہادی گروہ موجود رہے گا، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتیٰ کہ اللہ کا امرآجائے گا جبکہ وہ غالب ہی رہیں گے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:861]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ یہ سابقہ امتوں کی طرح ساری کی ساری گمراہ نہیں ہوگی جیسا کہ پہلی امتیں سب کی سب گمراہ ہو گئیں۔ (إِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ)
مذکورہ حدیث سے جہاد کی بھی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ یہ ہمیشہ جاری رہے گا اور اس کی مخالفت کرنے والے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، جیسا کہ مرزا احمد قادیانی کا مشن مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے روکنا اور نبوی منه ج سے دور ہٹانا تھا، لیکن وہ اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اور اللہ نے اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 861 سے ماخوذ ہے۔