حدیث نمبر: 859
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ أَجَارَكُمْ مِنْ ثَلَاثٍ: لَنْ تُجْمِعُوا كُلُّكُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ، وَأَنْ يَظْهَرَ فِيكُمُ الْبَاطِلُ، وَأنْ تَدْعُوا بِدَعْوَةٍ فَتُهْلَكُوا جَمِيعًا وَلَا بُدَّ لَكُمْ مِنَ الدَّجَّالِ وَالدُّخَانِ وَالدَّابَّةِ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر

اسی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں تین چیزوں سے پناہ دی ہے: یہ کہ تم سب کے سب گمراہی پر جمع نہیں ہو گے، تم پر باطل غالب نہیں آئے گا اور تم ایسی دعا نہیں کرو گے کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ، لیکن تمہارے لیے دجال، دھواں اور زمین کا جانور ضروری ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الفتن / حدیث: 859
تخریج حدیث «سنن ابي داود ، كتاب الفتن ، باب ذكر الفتن و دلاثلها ، رقم : 4253 . قال الشيخ الالباني ضعيف ولكن الجملة الثالثة صحيح .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ نے تمہیں تین چیزوں سے پناہ دی ہے: یہ کہ تم سب کے سب گمراہی پر جمع نہیں ہوگے، تم پر باطل غالب نہیں آئے گا اور تم ایسی دعا نہیں کرو گے کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ، لیکن تمہارے لیے دجال، دھواں اور زمین کا جانور ضروری ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:859]
فوائد:
دیگر احادیث میں ہے کہ میری امت ساری کی ساری کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے دعا کی ہے کہ ساری امت ہلاک یکلخت ہرگز نہ ہو گی۔ یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے جبکہ اس مذکورہ روایت کا آخری جملہ صحیح ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 859 سے ماخوذ ہے۔