حدیث نمبر: 851
أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، نا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ، قَالَ: ((يَكُونُ هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى إِمْرَةِ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کی ہلاکت اور تباہی قریش کے نوعمر نادان لڑکوں کے ہاتھوں ہو گی۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الفتن / حدیث: 851
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب المناقب ، باب علامات النبوة فى الاسلام ، رقم : 3605 . مسند احمد : 288/2 . صحيح ابن حبان ، رقم : 6712 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس امت کی ہلاکت اور تباہی قریش کے نو عمر نادان لڑکوں کے ہاتھوں ہوگی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:851]
فوائد:
صحیح بخاری میں ہے: عمرو بن یحییٰ بن سعید نے کہا کہ مجھ سے میرے دادا (سعید) نے بیان کیا: میں مسجد نبوی میں مدینہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا اور مروان بھی وہیں تھا۔ اتنے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے سچے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور اللہ نے ان کو سچا کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’قریش کے چند بدقماش لوگوں کے ہاتھوں میری امت تباہ ہوگی‘‘ مروان نے کہا: اللہ ان پر لعنت کرے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلا سکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہوگیا تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔ (صحیح بخاري، رقم: 7058)
علامہ وحید الزماں رحمہ اللہ مذکورہ حدیث کی شرح میں ’’تیسرالباری‘‘ میں لکھتے ہیں: آپ کے فرمانے کا مطلب ہے بدقماش لوگوں کی حکومت خرابی اور بربادی کی جڑ ہے، آخر مسلمانوں پر وہ تباہی آئی جب مسلمانوں کے سردار سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ جن سے اسلام کی زینت تھی اور مدینہ منورہ کی بے حرمتی ہوئی بہت سے صحابہ اور تابعین کو مدینہ میں شہید کر دیا گیا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 851 سے ماخوذ ہے۔