حدیث نمبر: 849
أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، نا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ حَاجًّا فَأَوْصَانِي سُلَيْمُ بْنُ عَتَرَ، وَكَانَ قَاضِيًا لِأَهْلِ مِصْرَ فِي وَلَايَةِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَمَنْ بَعْدَهُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ السَّلَامُ، وَقَالَ: إِنِّي اسْتَغْفَرْتُ الْغَدَاةَ لِأَبِيهِ وَلِأُمِّهِ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ فَأَبْلَغْتُهُ، فَقَالَ: وَأَنَا اسْتَغْفَرْتُ الْغَدَاةَ لَهُ وَلِأَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ أُمَّ خَنُّورٍ؟ تُرِيدُ مِصْرَ، فَدَنَوْتُ مِنْ رِفَاعِيَّتِهَا وَحَالِهَا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهَا مِنْ أَوَّلِ الْأَرْضِينَ خَرَابًا، ثُمَّ عَلَى إِثْرِهَا أَرْمِينِيَّةُ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَوْ مِنْ كَعْبٍ ذُو الْكِتَابَيْنِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

موسیٰ بن علی نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں حج کے لیے روانہ ہوا تو سلیم بن عتر جو کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں اور ان کے بعد تک اہل مصر کے قاضی تھے، نے مجھے وصیت کی کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سلام پہنچاؤں، اور انہوں نے کہا: میں نے کل اس کے والد اور والدہ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے، پس میں مدینہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے انہیں سلام پہنچا دیا، تو انہوں نے کہا: میں نے کل ان کے لیے اور ان کے اہل کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے، پھر انہوں نے کہا: تم نے ام خنور (مصر) کو کس طرح چھوڑا ہے، ہمیں اس کے حال و احوال بتائے جائیں، فرمایا: سب سے پہلے اس سرزمین پر فساد برپا ہو گا، پھر اس کے بعد آرمینیا، انہوں نے بیان کیا، میں نے انہیں کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: تو اور کیا کعب دو کتابوں والے سے؟

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الفتن / حدیث: 849
تخریج حدیث «سلسلة ضعيفة ، رقم : 4354 . ضعيف الجامع الصغير ، رقم : 4815 .»