حدیث نمبر: 848
أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ سَلَامَانَ بْنِ عَامِرٍ الشَّعْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اتُّهِمَ الْأَمِينُ وَأُمِّنَ غَيْرُ الْأَمِينِ، فَصُدِّقَ الْكَاذِبُ وَكُذِّبَ الصَّادِقُ، وَأَشْرَفَ عَلَيْكُمُ الشَّرْفُ الْجَوْرُ)) ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا شَرْفُ الْجَوْرِ؟ قَالَ: ((فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت دار پر (خیانت کی) تہمت لگائی جائے گی، غیر امانت دار کو امانت دار کہا جائے گا، جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور «شرف جور» تم پر نازل ہوں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «شرف جور» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے (نازل ہوں گے)۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الفتن / حدیث: 848
تخریج حدیث «انظر ما قبله .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’امانت دار پر (خیانت کی) تہمت لگائی جائے گی، غیر امانت دار کو امانت دار کہا جائے گا، جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور ’’شرف جور‘‘ تم پر نازل ہوں گے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ’’شرف جور‘‘ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے (نازل ہوں گے)۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:848]
فوائد:
بعض محققین نے اس کو شواہد کی بنا پر حسن کہا ہے۔ مذکورہ بالا روایت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی موجودہ زمانے میں حرف بحرف پوری ہو چکی ہے چونکہ آج یہ یہی صورت حال ہے کہ خائن کو امانت دار اور جھوٹے کو سچا سمجھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ ہے اور دن بدن فتنے اور فساد بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 848 سے ماخوذ ہے۔