حدیث نمبر: 816
اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ عَنْ مُوْسٰی، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خِیَارُکُمْ، اَحَاسُنِکُمْ اَخْلَاقًا.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے تم میں سے اخلاق بہترین ہیں۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البر و الصلة / حدیث: 816
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الادب ، باب حسن الخلق الخ ، رقم : 6035 . مسلم ، كتاب الفضائل ، باب كثرة حياثه صلى الله عليه وسلم رقم : 2321 . سنن ترمذي ، رقم : 1975 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے تم میں سے اخلاق بہترین ہیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:816]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا لوگوں میں سے بہترین وہ انسان ہے جو اخلاق کے لحاظ سے بہتر ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُهُمْ خُلُقًا۔)) (سنن ترمذي، ابواب الرضاعة، رقم: 1162) .... ’’سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلا ق والے ہیں۔‘‘
ایسے لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ مِنْ اَحَبِّکُمْ اِلَیَّ وَأَقْرَبِکُمْ مِنِّیْ مَجْلِسًا یَوْمِ الْقِیَامَةِ اَحَاسِنُکُمْ اَخْلَاقًا۔)) (سنن ترمذي، ابواب البر والصلة، رقم: 2018) .... ’’تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت والے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے، جو تم میں سے اخلاق میں سب سے زیادہ اچھے ہوں گے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 816 سے ماخوذ ہے۔