حدیث نمبر: 808
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيْضًا، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، وَهِيَ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأَوَّلِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ أَخِيرًا أَوْ نَمَا خَيْرًا)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں جو دو افراد کے درمیان صلح کراتا ہے، وہ خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے یا خیر و بھلائی کی بات آگے پہنچاتا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البر و الصلة / حدیث: 808
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق برقم : 649/808 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ شخص جھوٹا نہیں جو دو افراد کے درمیان صلح کراتا ہے، وہ خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے یا خیر و بھلائی کی بات آگے پہنچاتا ہے‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:808]
فوائد:
دو مسلمانوں میں صلح کروانے کا حکم ہے خواہ اس دوران جھوٹ ہی کا سہارا لینا پڑے دونوں میں نفرت کم کرنے کی غرض سے یا محبت و الفت ڈالنے کی وجہ سے صریح جھوٹ بولا جا سکتا ہے جبکہ آج ہم ایسے موقع پر جب جھوٹ جائز ہے، سچ کا مظاہرہ کر کے صلح کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔آمین۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 808 سے ماخوذ ہے۔