مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البر و الصلة— نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب: اچھے ایمان کے لیے اچھا اخلاق ضروری ہے
حدیث نمبر: 798
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ النَّاسِ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر نہ ظلم کرتا ہے نہ اسے رسوا کرتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا: ”تقویٰ یہاں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والا وہ شخص ہے جس کا اخلاق ان میں سے سب سے زیادہ اچھا ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:798]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:798]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جتنا انسان اخلاق میں کامل ہوگا اتنا ہی ایمان میں کامل ہوگا۔ معلوم ہوا ایمان کے لیے اچھا اخلاق ضروری ہے، ایک اچھے اخلاق والا روزے اور نماز والے شخص کے درجے کو پہنچ جاتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایمان کے لحاظ سے سب سے مکمل مومن وہ ہے جو ان میں سے اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو۔ اور بے شک حسن اخلاق (والا)، روزے اور نماز کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 1590)
اللہ ذوالجلال نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا ہے: ﴿وَاِِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾ (القلم: 4).... ’’آپ خلق عظیم کے مالک ہیں۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ((کَانَ خُلُقُهٗ الْقُرْاٰنُ)) (مسند احمد: 6؍ 91).... ’’آپ کا خلق قرآن تھا۔‘‘ یعنی قرآن مجید میں مذکورہ تمام اوصاف وخصال آپ کی عادت اور طبیعت بن چکے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو چیز سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی، وہ اللہ کا ڈر اور اچھا اخلاق ہے۔‘‘ (سنن ترمذي، رقم: 2004۔ سلسلة الصحیحة، رقم: 977)
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ترازو میں کوئی چیز اچھے اخلاق سے زیادہ بھاری نہیں ہے۔‘‘ (سنن ابي داود، رقم: 4799۔ مسند احمد: 6؍ 446)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جتنا انسان اخلاق میں کامل ہوگا اتنا ہی ایمان میں کامل ہوگا۔ معلوم ہوا ایمان کے لیے اچھا اخلاق ضروری ہے، ایک اچھے اخلاق والا روزے اور نماز والے شخص کے درجے کو پہنچ جاتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایمان کے لحاظ سے سب سے مکمل مومن وہ ہے جو ان میں سے اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو۔ اور بے شک حسن اخلاق (والا)، روزے اور نماز کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔‘‘ (سلسلة الصحیحة، رقم: 1590)
اللہ ذوالجلال نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا ہے: ﴿وَاِِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴾ (القلم: 4).... ’’آپ خلق عظیم کے مالک ہیں۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ((کَانَ خُلُقُهٗ الْقُرْاٰنُ)) (مسند احمد: 6؍ 91).... ’’آپ کا خلق قرآن تھا۔‘‘ یعنی قرآن مجید میں مذکورہ تمام اوصاف وخصال آپ کی عادت اور طبیعت بن چکے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو چیز سب سے زیادہ جنت میں داخل کرے گی، وہ اللہ کا ڈر اور اچھا اخلاق ہے۔‘‘ (سنن ترمذي، رقم: 2004۔ سلسلة الصحیحة، رقم: 977)
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ترازو میں کوئی چیز اچھے اخلاق سے زیادہ بھاری نہیں ہے۔‘‘ (سنن ابي داود، رقم: 4799۔ مسند احمد: 6؍ 446)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 798 سے ماخوذ ہے۔