مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البر و الصلة— نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب: مومن کا تکلیف پہنچنے پر صبر کرنا باعثِ ثواب ہے
حدیث نمبر: 794
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ مُحَيْصِنٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: نَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [النساء: 123] شَقَّتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَبَلَغَتْ مِنْهُمْ مَبْلَغًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فِي كُلِّ مَا يُصَابُ الْمُؤْمِنُ كَفَّارَةٌ حَتَّى الشَّوْكَةِ)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
اسی (سابقہ) سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بےشک اللہ نرمی والا ہے، وہ نرمی پسند کرتا ہے اور وہ نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو وہ سختی پر عطا نہیں فرماتا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: جب یہ آیت: ’’جو شخص برائی کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔‘‘ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر گراں گزرا اور انہیں سخت تکلیف پہنچی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قریب رہو اور میانہ روی اختیار کرو، مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، اس میں اس کے لیے کفارہ ہے حتیٰ کہ اسے کانٹا بھی چبھ جائے (تو یہ بھی باعث کفارہ ہے)۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:794]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:794]
فوائد:
مذکورہ حدیث میں اس چیز کا بیان ہے کہ اللہ ذوالجلال کا مومن کے ساتھ فضل وکرم کا جو معاملہ ہے کہ اس کو معمولی سی بھی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ ذوالجلال اس کی وجہ سے بھی ثواب عطا کرتا ہے۔ بشرطیکہ تکلیف پر صبر کیا جائے اگر صبر نہیں کرے گا تو ثواب سے محروم رہے گا۔
مذکورہ حدیث میں اس چیز کا بیان ہے کہ اللہ ذوالجلال کا مومن کے ساتھ فضل وکرم کا جو معاملہ ہے کہ اس کو معمولی سی بھی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ ذوالجلال اس کی وجہ سے بھی ثواب عطا کرتا ہے۔ بشرطیکہ تکلیف پر صبر کیا جائے اگر صبر نہیں کرے گا تو ثواب سے محروم رہے گا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 794 سے ماخوذ ہے۔