مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البر و الصلة— نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب: اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے
حدیث نمبر: 784
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ".ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کے دین یا اس کی دنیا کے بارے میں اس کی طرف اشارہ کیا جائے، سوائے اس کے جسے اللہ بچائے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی اسناد سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے نہ تمہارے اموال کی طرف، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:784]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:784]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ ذوالجلال کسی کی صورتوں اور مالوں کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ اللہ کے ہاں معیار دلوں کا تقویٰ، نیکی اور ایمان ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقَاکُمْ﴾ (الحجرات:13)
’’اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیے تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو، اللہ کے نزدیک تم سب میں سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔‘‘
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ ذوالجلال کسی کی صورتوں اور مالوں کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ اللہ کے ہاں معیار دلوں کا تقویٰ، نیکی اور ایمان ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقَاکُمْ﴾ (الحجرات:13)
’’اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیے تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو، اللہ کے نزدیک تم سب میں سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 784 سے ماخوذ ہے۔