مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البر و الصلة— نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب: مومن نرم گفتار اور اعلی کردار کا آئینہ دار ہوتا ہے
حدیث نمبر: 779
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الْأَعْوَرِ، وَكَانَ مِنْ جُلَسَاءِ أَبِي عَمْرٍو سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: ((مَا تَكَلَّمَ الْمُؤْمِنُ كَلِمَةً حَسَنَةً إِلَّا وَدُونَهَا أَلْيَنُ مِنْهَا تَجْرِي مَجْرَاهَا)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابوعون الاعور نے بیان کیا: مومن جو بھی اچھی بات کرتا ہے تو اس کے بعد والی بات اس سے بھی زیادہ نرم ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ابو عون الاعور نے بیان کیا، مومن جو بھی اچھی بات کرتا ہے تو اس کے بعد والی بات اس سے بھی زیادہ نرم ہوتی ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:779]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:779]
فوائد:
معلوم ہوا مؤمن نرم گفتار اور اعلیٰ کردار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر نرمی و حلم جیسے اوصاف حمیدہ پیدا فرمائیں۔ جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ بہت سی بھلائیوں سے محروم رہے گا۔
معلوم ہوا مؤمن نرم گفتار اور اعلیٰ کردار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر نرمی و حلم جیسے اوصاف حمیدہ پیدا فرمائیں۔ جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ بہت سی بھلائیوں سے محروم رہے گا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 779 سے ماخوذ ہے۔