حدیث نمبر: 769
أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ، نا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِرْشَادُكَ الْمُسْلِمَ عَلَى الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَرَدُّكَ السَّلَامَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر روزانہ صدقہ کرنا واجب ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا مسلمان کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البر و الصلة / حدیث: 769
تخریج حدیث «انظر ما قبله .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر مسلمان پر روزانہ صدقہ کرنا واجب ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارا مسلمان کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:769]
فوائد:
ایک دوسری حدیث میں ہے: ((کُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَةٌ)) (بخاري، رقم: 6021) ’’ہر اچھا کام صدقہ ہے۔‘‘
صدقہ کا اصل تو یہ ہے کہ آدمی خوشی سے اپنے مال سے کچھ اللہ کو خوش کرنے کے لیے دے۔ لیکن مذکورہ بالا احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ کے لیے ضروری نہیں کہ مال ہی دیا جائے، بلکہ دوسری خداداد صلاحیتوں کو خرچ کرنے سے بھی صدقہ کا ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا تمہارے لیے صدقہ ہے۔ (صحیح ترمذي، رقم: 1594)
ایک اور حدیث میں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بنو آدم میں سے ہر انسان کی تخلیق تین سو ساٹھ جوڑوں پر ہوئی، پس جس نے اللہ اکبر کہا، الحمد للہ کہا، لا اله الا الله کہا، سبحان اللہ کہا، استغفر اللہ کہا، راستے سے کوئی پتھر ہٹایا یا کوئی کانٹا یا ہڈی، راستے سے دور کر دی یا کسی نیکی کا حکم دیا یا کسی برائی سے روکا (یعنی) تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد میں (ایسے) مذکورہ اعمال کرے تو وہ اس دن اس حال میں شام کرتا ہے کہ اس نے اپنے نفس کو جہنم کی آگ سے دور کر لیا ہوتا ہے۔‘‘ (سلسلة صحیحة، رقم: 1717)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 769 سے ماخوذ ہے۔