حدیث نمبر: 768
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ: فَقَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ ‍‍ قَالَ: ((إِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَعِيَادَتُكَ الْمَرِيضَ صَدَقَةٌ، وَاتِّبَاعُكَ جِنَازَتَهُ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيُكَ وَرَدُّكَ السَّلَامَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

محمد بن فضیل بن غزوان نے اس اسناد سے اسی مثل روایت کیا ہے، راوی نے بیان کیا: انہوں نے کہا: اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا صدقہ ہے، تمہارا مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے، تمہارے جنازے میں شریک ہونا صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البر و الصلة / حدیث: 768
تخریج حدیث «السابق .»