مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البر و الصلة— نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب: ہر مسلمان کا ہر روز صدقہ کرنا ضروری ہے
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الْطَرِيقٍ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ، وَعِيَادَتُكَ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ صَدَقَةٌ، وَاتِّبَاعُكَ جِنَازَتَهُ صَدَقَةٌ، وَرَدُّكَ السَّلَامَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر ہر روز صدقہ کرنا ضروری ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان شخص کو راستہ بتا دینا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کی عیادت کرنا صدقہ ہے، تمہارا جنازے میں شریک ہونا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے۔“ محمد بن فضیل بن غزوان نے اس اسناد سے اسی مثل روایت کیا ہے، راوی نے بیان کیا: انہوں نے کہا: اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا صدقہ ہے، تمہارا مریض کی عیادت کرنا صدقہ ہے، تمہارا جنازے میں شریک ہونا صدقہ ہے، تمہارا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، تمہارا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے۔“