مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البر و الصلة— نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
باب: مسلمان کے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے
حدیث نمبر: 763
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ فَقَالَ: ((أُمُّكَ)) ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُمَّ أُمُّكَ)) ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُمَّ أُمُّكَ)) ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((أَبُوكَ)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی تمہاری ماں۔“ اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ۔“