حدیث نمبر: 749
أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ مَعَ الرَّسُولِ فَهُوَ إِذْنُهُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی قاصد کے ساتھ آئے تو وہی اس کا اذن ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البر و الصلة / حدیث: 749
تخریج حدیث «مسند احمد : 533/2 . قال شعيب الارناوط : اسناده قوي . طبراني اوسط ، رقم : 6630 . ادب المفرد ، رقم : 1075 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب آدمی قاصد کے ساتھ آئے تو وہی اس کا اذن ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:749]
فوائد:
کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا بہت بڑا جرم ہے، جب بھی جانا ہے تو اجازت لے کر، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’جس نے کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکا اور انہوں نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو یہ ضائع ہے۔ (اس میں کوئی قصاص نہیں)۔ (مسلم، کتاب الادب، رقم: 2158)
لیکن اگر کسی کو بلانے کے لیے آدمی بھیج دیا جائے، تو اندر آنے کے لیے مزید اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ بلانا ہی اجازت دینا ہے جس نے بلایا آگے اس کی ذمہ داری ہے کہ پہلے سے ہر طرح کے پردے وغیرہ کا انتظام کرے تاکہ جسے بلایا ہے، اس کی نظر بے جا نہ پڑے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 749 سے ماخوذ ہے۔