مسند اسحاق بن راهويه
كتاب اللباس و الزينة— لباس اور زینت اختیار کرنے کا بیان
باب: جس جگہ گھنٹی ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے
حدیث نمبر: 702
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس قافلے میں گھنٹی ہو، وہ رحمت کے فرشتوں کی رفاقت سے محروم ہوتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس قافلے میں گھنٹی ہو، وہ رحمت کے فرشتوں کی رفاقت سے محروم ہوتا ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:702]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:702]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جس جگہ گھنٹی ہو، وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ ڈھول ڈھمکے، باجے گاجے، طبلے سرنگی وغیرہ اسی میں شامل ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھنٹی کی آواز دور حاضر میں انسان کی ضرورت بن چکی ہے مثلاً گھروں میں داخل ہونے کے لیے گھنٹی کی ضرورت مدارس، سکول وکالج میں پیریڈ تبدیل کرتے وقت گھنٹی کی ضرورت، ٹیلی فون کے لیے گھنٹی کی ضرورت تو آخر ان تمام ضرورتوں میں گھنٹی کا استعمال ترک کر دیا جائے؟ ایسا کرنے میں ان گنت مشکلات بلکہ نقصان ہے اور اگر اسے استعمال میں رکھا جائے تو پھر رحمت کے فرشتے نہیں آتے؟ تو اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ دراصل گھنٹی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جس میں آواز کا ساز یا نغمہ پیدا ہوتا ہے۔ اور ایک وہ ہوتی ہے جس میں نغمہ اور ساز پیدا نہیں ہوتا۔ مذکورہ حدیث میں جس گھنٹی کی مذمت کی گئی ہے، اس سے مراد وہ گھنٹی ہے جس میں نغمہ اور ساز کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ وہ گھنٹیاں جن میں آواز کا نغمہ پیدا نہیں ہوتا، وہ اس مذمت میں شامل نہیں۔ لیکن موجودہ زمانہ میں گھڑیوں، ٹیلی فون اور دیگر الیکٹرونکس اشیاء میں موسیقی، ساز اور نغمے داخل کیے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان چیزوں سے بچ کر ان کی جگہ بسم اللہ، الحمد اللہ، اللہ اکبر کے کلمات استعمال کریں۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جس جگہ گھنٹی ہو، وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ ڈھول ڈھمکے، باجے گاجے، طبلے سرنگی وغیرہ اسی میں شامل ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھنٹی کی آواز دور حاضر میں انسان کی ضرورت بن چکی ہے مثلاً گھروں میں داخل ہونے کے لیے گھنٹی کی ضرورت مدارس، سکول وکالج میں پیریڈ تبدیل کرتے وقت گھنٹی کی ضرورت، ٹیلی فون کے لیے گھنٹی کی ضرورت تو آخر ان تمام ضرورتوں میں گھنٹی کا استعمال ترک کر دیا جائے؟ ایسا کرنے میں ان گنت مشکلات بلکہ نقصان ہے اور اگر اسے استعمال میں رکھا جائے تو پھر رحمت کے فرشتے نہیں آتے؟ تو اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ دراصل گھنٹی دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جس میں آواز کا ساز یا نغمہ پیدا ہوتا ہے۔ اور ایک وہ ہوتی ہے جس میں نغمہ اور ساز پیدا نہیں ہوتا۔ مذکورہ حدیث میں جس گھنٹی کی مذمت کی گئی ہے، اس سے مراد وہ گھنٹی ہے جس میں نغمہ اور ساز کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ وہ گھنٹیاں جن میں آواز کا نغمہ پیدا نہیں ہوتا، وہ اس مذمت میں شامل نہیں۔ لیکن موجودہ زمانہ میں گھڑیوں، ٹیلی فون اور دیگر الیکٹرونکس اشیاء میں موسیقی، ساز اور نغمے داخل کیے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان چیزوں سے بچ کر ان کی جگہ بسم اللہ، الحمد اللہ، اللہ اکبر کے کلمات استعمال کریں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 702 سے ماخوذ ہے۔