مسند اسحاق بن راهويه
كتاب المرضٰي و الطب— مریضوں اور ان کے علاج کا بیان
باب: علاج کے لیے پچھنے لگوانے کی ترغیب
حدیث نمبر: 687
اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ، نَا طَلْحَۃُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنْ کَانَ فِیْ شَیْئٍ مِمَّا تَصْنَعُوْنَ خَیْرٌ، فَفِیْ بُزْغَةِ الْحَجَّامِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(علاج کی غرض سے) تم جو کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں کوئی بھلائی ہے تو وہ پچھنے لگانے والے کے خون بہانے میں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(علاج کی غرض سے) تم جو کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں کوئی بھلائی ہے تو وہ پچھنے لگانے والے کے خون بہانے میں ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:687]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:687]
فوائد:
معلوم ہوا سینگی میں اللہ ذوالجلال نے بہت زیادہ فوائد رکھے ہیں۔ بشرطیکہ سینگی لگانے والا سمجھ دار ہو۔
معلوم ہوا سینگی میں اللہ ذوالجلال نے بہت زیادہ فوائد رکھے ہیں۔ بشرطیکہ سینگی لگانے والا سمجھ دار ہو۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 687 سے ماخوذ ہے۔