مسند اسحاق بن راهويه
كتاب المرضٰي و الطب— مریضوں اور ان کے علاج کا بیان
باب: ناک میں دوا ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 682
اَخْبَرَنَا الْمَخْزُوْمِیُّ، نَا وُهَیْبٌ، نَا عَبْدُاللّٰهِ بْنُ طَاؤُوْسٍ، عَنْ اَبِیْهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اِحْتَجَمَ، وَاسْتَعُطَ۔.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور ناک میں دوائی ڈلوائی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور ناک میں دوائی ڈلوائی۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:682]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:682]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا ناک میں دوا ڈالنا جائز ہے۔ بیماری کا علاج کروانا توکل کے منافی نہیں ہے۔ مذکورہ روایت سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ بیماری تو تقدیر میں لکھی تھی تو دوا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ فاعل اللہ کی ذات ہے دوا کرنا بھی تقدیر سے ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا ناک میں دوا ڈالنا جائز ہے۔ بیماری کا علاج کروانا توکل کے منافی نہیں ہے۔ مذکورہ روایت سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ بیماری تو تقدیر میں لکھی تھی تو دوا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ فاعل اللہ کی ذات ہے دوا کرنا بھی تقدیر سے ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 682 سے ماخوذ ہے۔