حدیث نمبر: 678
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا قَدْ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ عَلَاقَاتٍ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ الْعُذْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((عَلَامَ تَدْغَرُونَ أَوْلَادَكُمْ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ , عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ)) ، فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُهَا، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ أَوْ نَضَحَهُ قَالَ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ بِنَضْحِ بَوْلِ مَا لَا يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَغَسْلِ بَوْلِ مَا يَأْكُلُ الطَّعَامَ قَالَ النَّضْرُ: وَالْعُذْرَةُ: رِيحٌ يَكُونُ مِنَ الْجِنِّ وَيَدْغَرُونَ هُوَ عَمْدًا نَلْهَاهُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ میں نے اسے خلق کی بیماری کے اندیشے کے پیش نظر انگلی سے اس کا حلق دبایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کے حلق اس طرح انگلی سے کیوں دباتے ہو، تم یہ عود ہندی (قسط) استعمال کرو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے کو پکڑ لیا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا یا اس پر چھڑک دیا۔ راوی نے کہا: پس اس سے یہ طریقہ رائج ہو گیا کہ جو بچہ کھانا نہ کھاتا ہو اس کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا اور جو کھانا کھاتا ہو اس کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب المرضٰي و الطب / حدیث: 678
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الطب ، باب السعط بالقسط الخ ، رقم : 5692 . مسلم ، كتاب السلام ، باب النداوي بالعود الهندي ، رقم : 2214 . سنن ابوداود ، رقم : 3877 . سنن ترمذي ، رقم : 71 . سنن نسائي ، رقم : 302 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، میں نے اسے حلق کی بیماری کے اندیشے کے پیش نظر انگلی سے اس کا حلق دبایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنے بچوں کے حلق اس طرح انگلی سے کیوں دباتے ہو، تم یہ عود ہندی (قسط) استعمال کرو۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے کو پکڑ لیا، تو اس نے آپ پر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا یا اس پر چھڑک دیا۔ راوی نے کہا: پس اس سے یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ جو بچہ کھانا نہ کھاتا ہو اس کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا اور جو کھانا کھاتا ہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:678]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا بچوں کی حلق کی تکلیف کا علاج انگلی سے دبانا نہیں، بلکہ عود ہندی کا استعمال ہے۔ عود ہندی بہت سی بیماریوں کا علاج ہے۔ صحیح بخاری میں ہے سیّدہ ام قیس رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: میں نے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ’’تم لوگ اس عود ہندی کا استعمال کیا کرو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے۔ پسلی کے درد میں چبائی جاتی ہے۔‘‘ (بخاري، رقم: 5692)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 678 سے ماخوذ ہے۔