حدیث نمبر: 674
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام اکزر رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پرندے کو اپنے مسکن (گھونسلے) میں رہنے دو۔“ (انہیں فال لینے کے لیے نہ اڑاو)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ نے فرمایا: ’’پرندے کو اپنے مسکن (گھونسلے) میں رہنے دو۔‘‘ (انہیں فال لینے کے لیے نہ اڑاؤ)
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:674]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:674]
فوائد:
مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ برا شگون یا اچھا شگون لینے کے لیے ان کو نہ اڑاؤ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا۔
مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ برا شگون یا اچھا شگون لینے کے لیے ان کو نہ اڑاؤ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 674 سے ماخوذ ہے۔