حدیث نمبر: 667
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کلونجی میں السام کے علاوہ ہر چیز سے شفا ہے، اور السام موت ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کلونجی میں السام کے علاوہ ہر چیز سے شفا ہے، اور السام موت ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:667]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:667]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے کلونجی کے فائدے ثابت ہوتے ہیں کہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے کیونکہ موت کا وقت تو مقرر ہے، اگرچہ انسان ہزاروں دوائیاں استعمال کر لے، لیکن موت کا وقت مقرر ہے دوائیاں موت کو ٹال نہیں سکیں گی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِِذَا جَاءَ اَجَلُهَا﴾ (المنافقون: 11).... ’’اور جب کسی کا مقررہ وقت آجاتا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا۔‘‘
کلونجی کے بہت زیادہ فوائد حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں بیان کیے ہیں۔ لہٰذا کلونجی کو اپنے کھانوں میں اور اس کے علاوہ بھی استعمال کرنا چاہیے۔ اہل طب نے لکھا ہے کہ کلونجی سانس کی تکلیف، زکام، فالج، لقوہ، درد شقیقہ اور شوگر کے علاج میں بڑی مفید ہ، اگر کسی کو باؤلا کتا کاٹ لے تو کلونجی لگاتار اس کو استعمال کروائی جائے تو زہر کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
مذکورہ حدیث سے کلونجی کے فائدے ثابت ہوتے ہیں کہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے کیونکہ موت کا وقت تو مقرر ہے، اگرچہ انسان ہزاروں دوائیاں استعمال کر لے، لیکن موت کا وقت مقرر ہے دوائیاں موت کو ٹال نہیں سکیں گی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِِذَا جَاءَ اَجَلُهَا﴾ (المنافقون: 11).... ’’اور جب کسی کا مقررہ وقت آجاتا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا۔‘‘
کلونجی کے بہت زیادہ فوائد حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں بیان کیے ہیں۔ لہٰذا کلونجی کو اپنے کھانوں میں اور اس کے علاوہ بھی استعمال کرنا چاہیے۔ اہل طب نے لکھا ہے کہ کلونجی سانس کی تکلیف، زکام، فالج، لقوہ، درد شقیقہ اور شوگر کے علاج میں بڑی مفید ہ، اگر کسی کو باؤلا کتا کاٹ لے تو کلونجی لگاتار اس کو استعمال کروائی جائے تو زہر کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 667 سے ماخوذ ہے۔