حدیث نمبر: 491
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جائز ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الهبة و فضلها / حدیث: 491
تخریج حدیث «تقدم تخريجه : 106 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عمریٰ جائز ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:491]
فوائد:
عمریٰ: عمر سے ماخوذ ہے یعنی وہ چیز جو زندگی بھر کے لیے دی جائے۔ یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جاہلیت میں ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو گھر دیتا تو کہتا: میں نے اسے یہ گھر عمر اور زندگی کی مدت تک مباح قرار دیا ہے، پھر کہا جاتا تھا کہ یہ فلاں کے لیے عمریٰ ہے۔ (المنجد: ص582۔ نیل الاوطار: 4؍ 74)
اہل علم نے عمریٰ کی تین صورتیں بیان کی ہیں: ایک یہ کہ مطلق طور پر عمر بھر کے لیے ہبہ کر دینا۔ دوسری یہ کہ جس کو چیز ہبہ کی جا رہی ہے۔ اس کو زندگی کی شرط پر دینا، تیسری یہ کہ یوں کہنا کہ یہ تمہارے لیے ہے اور تمہارے بعد تمہارے ورثا کے لیے ہے۔ تیسری صورت جمہور کا موقف ہے۔ (فتح الباري: 5؍ 282) اور مذکورہ بالا حدیث سے بھی یہ موقف ثابت ہے اور لفظ جائزہ کے معنی ماضیہ ومستمرۃ ہیں۔ یعنی مرنے کے بعد موہوب لہ کی اولاد اس کی وارث ہوگی۔ خواہ اولاد کا ذکر نہ بھی کرے، جیسا کہ مذکورہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ جمہور کا موقف دلائل سے راجح معلوم ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 491 سے ماخوذ ہے۔