مسند اسحاق بن راهويه
كتاب العيدين— عیدین کے احکام و مسائل
باب: نمازِ عیدین میں تمام خواتین کو عیدگاہ جانے کا حکم
حدیث نمبر: 226
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
ہشام نے اس اسناد سے اسی حدیث سابق کی مثل روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ہشام نے اس اسناد سے اسی حدیث سابق کی مثل روایت کیا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:226]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:226]
فوائد:
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا نماز عید واجب ہے۔ کیونکہ جب حائضہ اور بغیر چادر والی عورتوں کو عید گاہ میں جانے کا حکم ہے تو مردوں کو بالاولیٰ ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا مسجد عید پڑھنے کی جگہ نہیں، کیونکہ حائضہ وہاں نہیں جاسکتی، خواتین با پردہ ہو کر نکلیں گی، ان کے لیے بناؤ سنگھار کرکے بے حجاب ہو کر نکلنا قطعاً جائز نہیں۔ بچوں اور بچیوںکو بھی عید گاہ لے جانا چاہیے۔ (بخاري، رقم: 975)
معلوم ہوا اگر کسی کے پاس اپنی اوڑھنی نہ ہو تو وہ کسی سے عاریتاً لے لے اور عید گاہ میں حاضر ہو، یہ بھی معلوم ہوا کہ عید کی نماز پڑھنے کے بعد خطبہ اور دعا مانگ کر آنا چاہیے۔
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا نماز عید واجب ہے۔ کیونکہ جب حائضہ اور بغیر چادر والی عورتوں کو عید گاہ میں جانے کا حکم ہے تو مردوں کو بالاولیٰ ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا مسجد عید پڑھنے کی جگہ نہیں، کیونکہ حائضہ وہاں نہیں جاسکتی، خواتین با پردہ ہو کر نکلیں گی، ان کے لیے بناؤ سنگھار کرکے بے حجاب ہو کر نکلنا قطعاً جائز نہیں۔ بچوں اور بچیوںکو بھی عید گاہ لے جانا چاہیے۔ (بخاري، رقم: 975)
معلوم ہوا اگر کسی کے پاس اپنی اوڑھنی نہ ہو تو وہ کسی سے عاریتاً لے لے اور عید گاہ میں حاضر ہو، یہ بھی معلوم ہوا کہ عید کی نماز پڑھنے کے بعد خطبہ اور دعا مانگ کر آنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 226 سے ماخوذ ہے۔