حدیث نمبر: 212
اَخْبَرَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ، نَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِکْرِمَةَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی عَلٰی (الْخَمُرَةِ).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصلوٰة / حدیث: 212
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الصلاة ، باب الصلاة على الخمرة : 381 . سنن ابوداود ، رقم : 656 . سنن ترمذي ، رقم : 331 . سنن ابن ماجه ، رقم : 1028 . مسند احمد : 269/1 . صحيح ابن خزيمه ، رقم : 1007 ،»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:212]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھی جاسکتی ہے اور مذکورہ حدیث سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ سجدہ کے لیے زمین کی مٹی کا ہونا ضروری ہے۔ خمرہ چھوٹی چٹائی کو کہتے ہیں، وہ کھجور کی بھی ہوسکتی ہے کسی اور چیز کی بھی۔ (نیل الاوطار: 2؍ 129)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 212 سے ماخوذ ہے۔